بدھ 29 جولائی 2026 - 22:13
اربعین حسینی کا اخلاقی پیغام

حوزہ/ کربلا جو کہ مظلومیت کا استعارہ ہے، اسے صرف امام حسینؑ کی مظلومیت تک محدود رکھنا درست نہیں، بلکہ کربلا ایثار،و قربانی،اخلاق و کردار تہذیب و تمدن اور انسانی اقدار کا وہ کوہِ ہمالیہ ہے جس سے ٹکرا کر طوفانِ یزیدیت خود بخود فنا اور نابود ہوجاتا ہے۔

تحریر: مولوی وقارؔ حیدر املوی

حوزہ نیوز ایجنسی | اربعین حسینی صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں، بلکہ انسانیت کے اعلیٰ ترین اخلاقی اصولوں کا مجسم مظاہرہ ہے۔ ہر سال کروڑوں لوگ جب نجف سے کربلا کی جانب پیدل سفر کرتے ہیں، تو اس سفر میں محض قدموں کی تھکن نہیں بلکہ روحانی بیداری اور اخلاقی تطہیر کا ایک عظیم عمل کارفرما ہوتا ہے۔

شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای قدس سرہ اربعین کے متعلق فرماتے ہیں"کہ حضرت امام‌ حسین کا تعلق پوری انسانیت سے ہے قوم تشییع کو اس بات پر فخر ہے کہ ہم امام حسین علیہ السّلام کے پیروکار ہیں نیز حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق صرف ہم تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب اسلامی امام حسین علیہ السّلام کے پرچم تلے ہیں بلکہ اس عظیم مشی (اربعین واک ) میں غیر مسلم افراد بھی شریک ہوتے ہیں مشیِ اربعین حسینی کا سلسلہ اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے جو عالم انسانیت پر ظاہر ہورہی ہے " ۔یہی وجہ ہے کہ یہ ایسا سفر ہے جہاں کوئی دوسروں پر اپنی برتری نہیں جتاتا، جہاں نہ قومیت، نہ زبان، نہ رنگ، نہ مسلک،گویا کسی قسم کا کوئی فرق باقی نہیں رہتا ہے بس ہرطرف سے ایک دل نشیں آواز آرہی ہوتی ہے "۔۔ھلابیکم‌ یا زوار الحسین " اور سب ایک ہی قافلے کے مسافر ہوتے ہیں اربعین حسینؑ کے قافلے کے۔ اس سفر میں ایثار و قربانی کا وہ منظر دیکھنے کو ملتا ہے جو تاریخِ انسانیت میں شاید ہی دکھائی دے،

جب نفس پرستی کو کچل کر خودغرضی کا سیاہ کفن اتار دیا جائے اور ایثار و فداکاری کا جامۂ سرخ زیبِ تن کیا جائے تو انسان ایک نیا منظر دیکھتا ہے وہ منظر جو اربعین حسینی میں جا بجا تجلیات بکھیرتا نظر آتا ہے۔

انسان خود بھوکا پیاسا ہو مگر زائر کو سیر و سیراب کرے، اپنا بستر زائر کے لیے وقف کر دے، اپنی آرام گاہ کو دوسرے کے سکون کی جگہ بنا دے یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان اپنی ذات کی قیدوبند سے نکل کر اخلاقِ حسینی میں ڈھل جاۓ،

جہاں کروڑوں کا مجمع ہو مگر تنازعات کا نام و نشان تک نہیں ملتا، وہاں کوئی قانون نہیں بلکہ اخلاقی نظم و ضبط کارفرما ہوتا ہے۔ یہ وہی اخلاق ہے جس کا درس امام حسینؑ نے کربلا میں دیا، اور جو اربعین کے سفر میں زندہ و جاری نظر آتا ہے۔

یہی وہ پیغام ہے جو ہر سال زائرین امام حسینؑ کے ذریعے عراق کی مقدس سرزمین کربلائے معلیٰ سے پوری دنیا تک پہنچتا ہے، گویا اگر معاشرے میں ہر فرد اپنی انا کو پامال کردے اور دوسروں کی خدمت کو اپنا شرف اور شعار سمجھے اور ان کے حقوق کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں ادا کرے، اور نفسانی خواہشات اور آپسی تنازعات سے بلند ہو جائے تو یہ بات پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ یہ دنیاۓ فانی بھی نمونۂ جنت بن سکتی ہے۔ اور یہی اربعین حسینی کا اصل اخلاقی پیغام ہے ، جہاں انسان بغیر کسی مفاد، انا یا فخر کے اپنی عارضی زندگی کو انسان اور انسانیت کے لیے وقف کردے اُسے سفرِ اربعین حسینی کہا جاتا ہے۔

در حقیقت کربلا جو کہ مظلومیت کا استعارہ ہے، اسے صرف امام حسینؑ کی مظلومیت تک محدود رکھنا درست نہیں، بلکہ کربلا ایثار،و قربانی،اخلاق و کردار تہذیب و تمدن اور انسانی اقدار کا وہ کوہِ ہمالیہ ہے جس سے ٹکرا کر طوفانِ یزیدیت خود بخود فنا اور نابود ہوجاتا ہے

کتابِ کربلا کا ہر باب اپنے آپ میں ایک روشن مینارۂ ہدایت ہے؛ رمزِ زندگی، رازِ بندگی، دامن کربلا کی تابندگی میں بخوبی نظر آتی ہے۔

اور وہی تابندگی جب اہل ایمان کے دلوں میں جلوہ گر ہوتی ہے تو ان کی روحیں روحِ حسینی سے منسلک ہوجاتی ہیں، جس کے سبب ان کے اندر وہی اخلاص و عمل پیدا ہوتا ہے جس کا تقاضا حضرت اباعبداللہ الحسینؑ نے خادمین و زائرینِ حسینی سے کیا ہے۔

چنانچہ اربعین حسینی کے مقدس اور مخصوص موقع پر جو روح پرور مناظر نگاہوں کے سامنے آتے ہیں، وہ اسی انسان ساز عشقِ حسینی کی مجسم تصویر ہوتے ہیں وہ عشق جس کے اندر اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ عقل و شعور انسان کو روحانی بیداری عطا کرتا ہے، اور اخلاق و ایثار کا ایسا درس دیتا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور اجتماع یا ہجوم میں قطعاً نظر نہیں آسکتی۔

یہ اسی عشقِ حسینی کا کرم ہے کہ دنیاے ماضی کے تمام تر منعقدہ اجتماعات سے لے کر حال کے کسی سیاسی و سماجی ہجوم و اجتماع میں ایسا انسان ساز ، مہذب و متمدن منظر اور اتنا عمیق روحانی و ملکوتی اثر نہیں دیکھا جا سکاجو اہلِ نظر کو اربعین حسینی کے موقع پر سالہا سال سے نظر آ رہا ہے۔

یہ کہنا بالکل بجا اور درست ہے کہ دنیا کے مختلف اجتماعات چاہے وہ سیاسی ہوں یا سماجی ، دینی ہوں یا مذہبی چونکہ ان میں عشقِ حسینی اور تعلیمات اہلبیت کا فقدان ہوتا ہے، اس وجہ سے ان اجتماعات میں انگنت اخلاقی ، تہذیبی،تمدنی اور تربیتی نقائص پائے جاتے ہیں۔

لیکن اربعینِ حسینی کا آفاقی اجتماع، جس میں شریک خادمین و زائرین کے دلوں میں جب عشقِ حسینی کا جذبہ اور غمِ حسینؑ کا سوز و ساز پیدا ہوتا ہے، تو انکے باطن میں اک انوکھی انقلابی کیفیت جنم لیتی ہے، اور وہی روحانی اثر اور باطنی انقلاب انہیں وادار کرتا ہے کہ وہ اس عظیم الشان روحانی اجتماع میں تقربِ الٰہی کے لیے حسینی کردار پر عمل کرتے ہوئے اپنی انا کو کچل کر خدمتِ خلق کو اپنا شرف سمجھیں، اور کسی طرح کے نزاع کو پیدا ہونے سے روکیں، خود کلفت و مشقت برداشت کرلیں لیکن کسی زائر امام حسینؑ پر انگشت نمائی نہ کریں، کسی کو عملی و زبانی تکلیف نہ پہنچائیں۔

اربعین حسینی کے اس عظیم الشان آفاقی و روحانی اجتماع میں بذات خود کسی طرح کا تنازع اور اخلاقی نقص کا نہ پایا جانا، اسے دیگر دنیاوی اجتماعات سے مبرّا و منزہ اور جدا کرتا ہے۔ یہ اجتماع در حقیقت بذاتِ خود ایک عظیم روحانی و اخلاقی درسگاہ ہے۔

لیکن اگر شاذ و نادر اس سفرِ اربعین میں انفرادی سطح پر کہیں اخلاقی یا تربیتی کمی نظر آ جائے، تو یہ افسوسناک اس وجہ سے ہے کہ ہم نے خود اس روحانی سفر کی عظمت و مقصد کو پوری طرح سمجھنے میں کوتاہی کی۔ وگرنہ اربعین حسینی بذاتِ خود ایک انسان ساز، عظیم، ملکوتی اور اخلاقی نمونۂ عمل اجتماع ہے۔

لہٰذا اربعینِ حسینی میں شریک ہونے والے ہر زائر کا فریضہ ہے کہ وہ اس عظیم، ملکوتی و آفاقی اجتماع میں فقط رسماً نہ شریک ہو، بلکہ پہلے اس کے آفاقی و ابدی ہدف کو سمجھے،

اور اس سفر میں شامل ہو کر خود کو ہمیشہ کے لیے باطنی اور اخلاقی اعتبار سے بیدار کرنے کا مصمم ارادہ کرے، تاکہ حضرت امام حسینؑ عالی مقام کا کرم اس کے شاملِ حال ہو سکے، اور اسے دنیا و عقبٰی کی دائمی سعادت نصیب ہو جائے۔

اربعینِ حسینی کا اجتماع چونکہ اپنے دامن میں انسانیت پرور آفاقی پیغام سموئے ہوئے ہے، لہٰذا یہ اجتماع مظلومینِ جہان بشمول مظلومینِ فلسطین کے لیے انسانی احتجاج اور روحانی امداد کے مترادف ہے۔

اور بالآخر راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ اربعینِ حسینی کے آفاقی اجتماع کو بصیرت آمیز نگاہ سے دیکھنے والا، اور اس کے حقیقی ہدف کو سمجھنے والا اپنے اندر جذبۂ انسانیت کو بڑھاتا ہے اور چراغِ روحانیت کو روشن کرتا ہے۔

مزید برآں وہ اپنی ذات سے باطنی نقائص کو ختم کر کے اخلاقی اقدار کو فروغ دیتا ہے، اور جملہ مستضعفین و مظلومین اور مومنین کی خدمت و حمایت کو اپنا انسانی فریضہ تصور کرتا ہے۔

خدا خادمین و زائرینِ حسینی کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور جملہ مؤمنین کو سفرِ اربعینِ حسینی اور زیارتِ حرمینِ شریفین کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین، والحمد للّٰہ ربّ العالمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha